تحریر: عاصم علی جامعۃ المصطفی العالمیہ کراچی (واحد برادران)
حوزہ نیوز ایجنسی I
تعارف
اسلامی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہیں جن کا کردار محض ایک فرد تک محدود نہیں رہتا بلکہ وہ ایک عہد، ایک تحریک اور ایک الٰہی مشن کی بنیاد بن جاتی ہیں۔ انہی عظیم ہستیوں میں سرِفہرست نام حضرت خدیجہ بنت خویلد کا ہے، جو رسولِ اکرم ﷺ کی پہلی زوجہ، اسلام کی پہلی خاتون مؤمنہ اور امتِ مسلمہ کی روحانی مادر کہلاتی ہیں۔
آپ قریش کے معزز خاندان بنی اسد سے تعلق رکھتی تھیں۔ آپ کے والد خویلد بن اسد مکہ کے بااثر اور محترم سرداروں میں شمار ہوتے تھے۔ زمانۂ جاہلیت میں بھی آپ اپنی پاکدامنی، دیانت، فہم و فراست اور اعلیٰ اخلاق کی وجہ سے “طاہرہ” کے لقب سے مشہور تھیں۔ تجارت میں غیر معمولی بصیرت رکھتی تھیں اور مکہ کے بڑے تاجروں میں آپ کا شمار ہوتا تھا۔
جب رسولِ خداؐ کو نبوت عطا ہوئی اور آپ نے دعوتِ اسلام پیش کی تو سب سے پہلے جس شخصیت نے آپ کی تصدیق کی وہ حضرت خدیجہؑ تھیں۔ آپ نے نہ صرف ایمان قبول کیا بلکہ ہر مرحلے پر رسولِ خداؐ کا ساتھ دیا۔ اپنی تمام دولت اسلام کی ترویج اور مظلوم مسلمانوں کی مدد کے لیے وقف کر دی۔ شعبِ ابی طالب کی سختیوں میں بھی آپ نے صبر و استقامت کا مظاہرہ کیا۔
اسی عظیم ایثار اور قربانیوں بھری زندگی کا آخری باب آپ کی وفات ہے، جو اسلام کی ابتدائی تاریخ کا نہایت دردناک اور اہم واقعہ ہے۔ آپ کی رحلت نے نہ صرف رسولِ خداؐ کو گہرے غم میں مبتلا کیا بلکہ اسلامی تحریک کو بھی ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا۔
مقدمہ
اسلام کی تاریخ قربانیوں سے عبارت ہے، اور ان قربانیوں میں سب سے نمایاں قربانی حضرت خدیجہؑ کی ہے۔ اگر آغازِ اسلام کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دین کی بنیاد تین ستونوں پر قائم تھی. رسولِ خداؐ کی نبوت، حضرت علیؑ کی حمایت اور حضرت خدیجہؑ کی مالی و روحانی معاونت۔
حضرت خدیجہؑ کی وفات بعثت کے دسویں سال ماہ رمضان میں واقع ہوئی۔ یہ وہ وقت تھا جب مسلمان شدید مشکلات سے گزر رہے تھے۔ شعبِ ابی طالب کا تین سالہ محاصرہ ختم ہوا ہی تھا کہ مسلسل مشقت اور فاقہ کشی نے آپ کی صحت کو کمزور کر دیا۔ بالآخر آپ اس دنیا سے رخصت ہو گئیں۔
اسی سال رسولِ خداؐ کے چچا حضرت ابو طالبؑ بھی وفات پا گئے، جس کی وجہ سے اس سال کو “عامُ الحزن” یعنی غم کا سال کہا جاتا ہے۔
حضرت خدیجہؑ کا مقام و مرتبہ
حضرت خدیجہؑ کا مقام اسلام میں بے مثال ہے۔ آپ نہ صرف پہلی مؤمنہ تھیں بلکہ وہ پہلی شخصیت تھیں جنہوں نے رسولِ خداؐ کی نبوت کی تصدیق کی۔
رسولِ خداؐ نے فرمایا: "آمنت بی إذ کفر الناس، وصدقتنی إذ کذبنی الناس، وواستنی بمالها إذ حرمنی الناس"
ترجمہ: "انہوں نے اس وقت مجھ پر ایمان لایا جب لوگ انکار کر رہے تھے، انہوں نے میری تصدیق کی جب لوگ مجھے جھٹلا رہے تھے، اور انہوں نے اپنے مال سے میری مدد کی جب لوگوں نے مجھے محروم کر دیا تھا۔"
ایک اور روایت میں آپؐ نے فرمایا: "أفضل نساء أهل الجنة أربع: مريم بنت عمران، وآسية بنت مزاحم، وخديجة بنت خويلد، وفاطمة بنت محمد"
یہ روایت آپ کے روحانی مقام اور عظمت کی واضح دلیل ہے۔
شعبِ ابی طالب اور قربانیاں
بعثت کے ساتویں سال کفارِ مکہ نے بنی ہاشم کا مکمل سماجی و معاشی بائیکاٹ کر دیا۔ اس کے نتیجے میں رسولِ خداؐ اور آپ کے اہلِ خاندان کو شعبِ ابی طالب میں محصور ہونا پڑا۔
تین سال تک:خوراک کی شدید قلت رہی،تجارتی تعلقات منقطع رہے اور مسلمانوں کو فاقہ کشی کا سامنا کرنا پڑا۔
حضرت خدیجہؑ نے اپنی ساری دولت مسلمانوں کی خدمت میں خرچ کر دی۔ یہ سختیاں آپ کی صحت پر گہرے اثرات چھوڑ گئیں۔
وفات کا واقعہ
بعثت کے دسویں سال ماہ رمضان میں حضرت خدیجہؑ بیمار ہو گئیں۔ مسلسل مشقت اور کمزوری کے باعث آپ کی حالت بگڑتی گئی۔ بالآخر آپ نے اسی سال وفات پائی۔
رسولِ خداؐ کو اس سانحہ کا شدید صدمہ ہوا۔ کچھ عرصہ قبل ہی حضرت ابو طالبؑ بھی وفات پا چکے تھے۔ اس لیے اس سال کو "عامُ الحزن" کہا گیا۔
تدفین
آپ کو مکہ مکرمہ کے قبرستان جنت المعلیٰ میں دفن کیا گیا۔ رسولِ خداؐ خود قبر میں اترے اور اپنی شریکِ حیات کو سپردِ خاک کیا۔
یہ لمحہ رسولِ خداؐ کی زندگی کا انتہائی دردناک مرحلہ تھا۔
وفات کے اثرات
1. رسولِ خداؐ کی زندگی پر اثر
حضرت خدیجہؑ نہ صرف زوجہ بلکہ رازدار اور مشیر بھی تھیں۔ آپ کی جدائی نے رسولِ خداؐ کو شدید تنہائی میں مبتلا کر دیا۔
2. اسلامی تحریک پر اثر
آپ کی مالی معاونت اسلام کی بقا کے لیے نہایت اہم تھی۔ آپ کی وفات کے بعد مسلمانوں کے لیے حالات مزید سخت ہو گئے، یہاں تک کہ ہجرت کا مرحلہ پیش آیا۔
حضرت فاطمہ زہراؑ پر اثر
حضرت خدیجہؑ کی وفات کے وقت حضرت فاطمہؑ کم سن تھیں۔ ماں کی جدائی نے ان کی شخصیت پر گہرا اثر ڈالا۔ بعد میں آپ نے اپنے والد کی خدمت کر کے "اُمُّ أبیہا" کا لقب پایا۔
تاریخی اہمیت
حضرت خدیجہؑ کی وفات نے اسلامی تاریخ کا رخ موڑ دیا۔ اس کے بعد مکہ میں رسولِ خداؐ کے لیے حالات مزید دشوار ہو گئے۔ لیکن یہی آزمائشیں بعد میں اسلامی ریاست کے قیام کا پیش خیمہ بنیں۔
پیغامِ وفات
حضرت خدیجہؑ کی رحلت ہمیں یہ درس دیتی ہے:
دین کی خدمت میں مال خرچ کرنا عظیم عبادت ہے۔
خواتین کا کردار اسلامی تاریخ میں بنیادی ہے۔
اخلاص اور وفاداری تاریخ بدل سکتی ہے۔
مشکلات کے باوجود استقامت کامیابی کی ضمانت ہے۔
نتیجہ
حضرت خدیجہؑ کی وفات کو اگر محض ایک خاندانی سانحہ سمجھا جائے تو یہ تاریخ کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ درحقیقت یہ واقعہ اسلام کے ابتدائی دور کا ایک فیصلہ کن موڑ تھا۔ حضرت خدیجہ بنت خویلد کی شخصیت رسولِ اکرم ﷺ کی نجی زندگی، دعوتِ اسلامی کی پیش رفت اور معاشرتی استحکام—تینوں پہلوؤں میں بنیادی ستون کی حیثیت رکھتی تھی۔ ان کی رحلت سے یہ تینوں دائرے بیک وقت متاثر ہوئے۔
اولاً، رسولِ خداؐ کی ذاتِ اقدس پر اس کا گہرا روحانی و جذباتی اثر پڑا۔ حضرت خدیجہؑ وہ ہستی تھیں جنہوں نے نزولِ وحی کے ابتدائی اور نہایت حساس مرحلے میں رسولِ خداؐ کو تسلی دی، یقین دلایا اور ہر طرح کا سہارا فراہم کیا۔ جب مکہ کی فضا تکذیب، تمسخر اور ظلم سے بھری ہوئی تھی، تب حضرت خدیجہؑ گھر کو سکون اور اعتماد کا مرکز بنائے ہوئے تھیں۔ ان کی وفات کے بعد رسولِ خداؐ ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوئے جہاں ظاہری اسباب کمزور نظر آتے تھے، مگر اسی کمزوری میں توکلِ علی اللہ کی قوت اور نمایاں ہو گئی۔
ثانیاً، اسلامی تحریک کے سماجی و معاشی پہلو پر اس وفات کے اثرات واضح تھے۔ شعبِ ابی طالب کی طویل محصوریت کے دوران حضرت خدیجہؑ نے اپنی تمام دولت اسلام کے لیے وقف کر دی۔ یہ محض مالی مدد نہیں تھی بلکہ ایک نظریاتی اعلان تھا کہ دین کی سربلندی کے لیے مال و متاع کی قربانی کوئی نقصان نہیں بلکہ سرمایۂ آخرت ہے۔ ان کی رحلت کے بعد مسلمان مزید سخت حالات سے گزرے، جو بالآخر ہجرتِ مدینہ کا پیش خیمہ بنے۔ یوں ان کی قربانیوں نے غیر مستقیم طور پر اسلامی ریاست کے قیام کی راہ ہموار کی۔
ثالثاً، ان کی وفات نے امتِ مسلمہ کو عورت کے حقیقی مقام کا درس دیا۔ حضرت خدیجہؑ نے ثابت کیا کہ عورت صرف گھریلو دائرے تک محدود نہیں بلکہ فکری، مالی اور اخلاقی سطح پر ایک عظیم تحریک کی بنیاد بن سکتی ہے۔ ان کی زندگی اور وفات اس حقیقت کی دلیل ہے کہ اسلام کی ابتدا میں عورت نے محض پیروی نہیں کی بلکہ قیادت اور سرپرستی کا کردار بھی ادا کیا۔
“عامُ الحزن” کا نام اسی حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ یہ سال رسولِ خداؐ کے لیے شدید ترین غم کا سال تھا۔ لیکن اسی غم کے بطن سے صبر، استقامت اور الٰہی نصرت کا نیا باب کھلا۔ حضرت خدیجہؑ کی جدائی نے وقتی طور پر تنہائی پیدا کی، مگر ان کی یاد اور ان کی قربانیوں کی تاثیر ہمیشہ زندہ رہی۔ رسولِ خداؐ بعد کے برسوں میں بھی ان کا ذکر محبت اور احترام سے فرماتے رہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کا مقام وقتی نہیں بلکہ دائمی تھا۔
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ حضرت خدیجہؑ کی وفات اسلام کی تاریخ کا ایک دردناک مگر بامعنی واقعہ ہے۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ۔ حق کی راہ میں دی گئی قربانی کبھی ضائع نہیں ہوتی۔ اخلاص اور وفاداری تاریخ کا رخ بدل سکتے ہیں۔
عورت ایمان، بصیرت اور ایثار کے ذریعے امت کی تقدیر سنوار سکتی ہے۔ آزمائشیں وقتی ہوتی ہیں مگر صبر کے ثمرات دائمی ہوتے ہیں۔
حضرت خدیجہؑ کی حیات و وفات دراصل ایمان، وفا اور قربانی کا ایسا روشن مینار ہے جو قیامت تک اہلِ ایمان کے لیے رہنمائی کا سرچشمہ رہے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے اور دینِ اسلام کی خدمت میں اخلاص اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔









آپ کا تبصرہ